Categories
Asilo e immigrazione Covid Regole e comportamenti Salute

اگر آپ حکومتی طبی ادارے میں درج نہیں ہیں یا پھر آپ کے پاس طبی سہولت کا کارڈ نہیں ہے تو پھر آ پ گرین پاس کیسے حاصل کرسکتے ہیں

وہ لوگ جن کو ویکسین لگ چکی ہے ، لیکن ان کا قومی طبی ادارے میں اندراج نہیں ہوا، یا ان کے پاس الیکٹرونک شناختی کارڈ نہیں ہے، یا پھر طبی سہولت کا کارڈ نہیں ہے، یا پھر نا ایس پی ائی ڈی یا  آیپ ایوہے ، وہ مندرجہ ذیل طریقے کو اپناتے ہوئے گرین پاس حاصل کر سکتے ہیں:

پر کلک کریں؛“Tessera Sanitaria” اور تیسرا سینیتاریاhttps://www.dgc.gov.it/web/1-اس ویب سائٹ پر جائیں 


richiedere il green pass

 پر کلک کریں ۔“Utente non iscritto al SSN vaccinato in Italia”2-جوبھی سکرین کھلے گی اس میں

(طبی سہولت کے کارڈ کے بغیر یا پھر کسی اور Vaccinato all’estero یا Utente senza tessera sanitaria یا پھر 

موجود ہے تو)۔ مختلف پوچھی گئی معلومات کو مکمل کریں اور AUTHCODEملک میں ویکسین لگی ہےاگر اس کے پاس 

پر کلک کریں۔Recupera certificazione


کے حصّے کو پُر کریں“Codice fiscale o identificativo assegnato da Sistema TS”3-


(کوڈیچے فیزکالے یا ٹی ایس کے سسٹم سے حاصل کردہ شناخت)

) اس ENIیا STPخیال رکھیں: اس بات کا خیال رکھیں کہ صرف ہندسے ہی نہیں درج کرنے بلکہ اس کے ساتھ ابتدائی حروف بھی لکھنے ہیں جیسے کہ (

طرح سے کہ اس کوڈ میں ہندسوں اور حروف کی تعداد وہی ہو جو ایک کوڈیچے فیزکالے کی ہوتی ہے، ورنہ کمپیوٹر اس نمبر کو نہیں پہچان سکے گا۔ 

(کوڈ لکھنے کے دوران وقفہ نہیں دینا)STP123456789مثال کے طور پر: 

(کوڈ لکھنے کے دوران وقفہ نہیں دینا)ENI123456789مثال کے طور پر: 

-اس تاریخ کا اندراج کریں جس پر آپ کو ویکسین لگی تھی۔

-فہرست میں سے جس زبان میں سرٹیفیکیٹ ہے اس کا انتخاب کریں

-سکیورٹی کوڈ کا اندراج کریں(ہر دفعہ سسٹم میں داخل ہونے پر یہ کوڈ تبدیل ہوتا ہے)۔

پر کلک کریںRecupera certificazione -گرین پاس پی ڈی ایف فارمیٹ میں حاصل کرنے کے لیے 

توجہ فرمائیں: ہم آپ کو ہدایت دیتے ہیں کہ آپ یہ طریقہ کار ویکسین لگوانے کے چودہ دن بعد شروع کریں، اگر آپ نے دوسری ویکسین لگوا لی ہے تو پھر آپ یہ طریقہ کار تین چار دن بعد بھی کر سکتے ہیں۔ 

اگر ایسا ہو جائے کہ اس سارے طریقہ کار کو کرنے کے بعد بھی آپ گرین پاس حاصل نہیں کر سکے تو پھر ہم آپ کو مندرجہ ذیل نمبروں پر رابطہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں:

-ٹول فری نمبر جنہوں نے بین الاقوامی پناہ کی درخواست دی ہوئی ہے یا پھر جن کے پاس ریفیوجی سٹیٹس ہے(اے آر سی ائی )

800950570یا پھر لائکا موبائیل : 3511376335

-عوامی سہولت کا نمبر 1500(یہ نمبر ہر لمحہ 24گھنٹے کے لیے ایکٹو ہوتا ہے)اس پر کوویڈ -19کے حوالے سے گرین پاس لینے کی معلومات اور مدد موجود ہے۔

پر کلک کر کے فارم پُر کریں یا پھر ٹول فری نمبر 800901010پر کال کریںa questo link-یو این اے آر کو اطلع دیں ، 

(Fonte: Binario95 e Avvocato di Strada)





Categories
Covid Evidenza Lavoro Regole e comportamenti Salute

کام کرنے کی جگہوں میں گرین پاس کا ہونا لازمی ہے:کن باتوں کا جاننا ضروری ہے

15اکتوبر 2021سے تمام کام کرنے والے افراد چاہے وہ حکومتی یا نجی اداروں کے ملازمین ہوں ، کے پاس گرین پاس (چرتیفیکاتوویردے) کا ہونا لازمی ہے جب وہ کام پر ہوں۔ ماسوائے مندرجہ ذیل کے:

-وہ لوگ جن کو طبی مسلئہ کی وجہ سے ویکسین نا لگ سکے: اس حوالے سے ان کو باقاعدہ ڈاکٹر کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنا ہو گا۔ لیکن پھر بھی ان کو بنا لاگت کے کوویڈ ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 

-وہ لاگ جو ہمیشہ سمارٹ ورکنگ (گھر سے کام کرنا)کرتے ہیں۔ 

ان ملازمین کے ساتھ کیا ہو گا جن کے پاس گرین پاس نہیں ہے

-حکومتی ملازمین کے لیے:کام کی جگہ پر داخل ہوتے ہوئے اگر ملازم کے پاس گرین پاس نہیں ہو گا تو اس کو بلاجواز کے غیر حاضر تصور کیا جائے گا (اس دوران اس کا کام کو نا کھو دینے کا حق برقرار رہے گا) جب تک وہ گرین پاس پیش نہیں کرتا۔ پانچ دن کے بعد اگر وہ اپنے کام سے غیر حاضر رہےگا تو اس کے کام کا کانٹریکٹ ختم ہو جائے گا اور جس دن سے وہ غیر حاضر ہونا شروع ہوگا سے باقی تمام دنوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی۔

-نجی اداروں کے ملازمین کے لیے: جو کوئی بھی گرین پاس کے بنا آئے گا اس کو غیر حاضر تصور کیا جائے گا اور تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی(اس دوران اس کا کام کو نا کھو دینے کا حق برقراررہے گا) جب تک کہ وہ گرین پاس پیش نہیں کرے گا۔ وہ ادارے جن کے پاس 15سے کم ملازمین ہیں، اگر کسی ملازم کے پاس گرین پاس نہیں ہے تومالک  اس کی جگہ عارضی طور پر کسی اور کو کام پر بلائےگا۔ 

کام کی جگہ پر کون کنٹرول کرے گا؟

مالکان کام کی جگہ پر کنٹرول کریں گے: 15اکتوبر تک مزید وضاحت کے ساتھ گرین پاس چیک کرنے کے طریقے منظم کیے جائیں گے۔ زیادہ تر کام کی جگہ کے داخلے پر کنٹرول ہو گا اور اس کے علاوہ کام کے دوران بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ 

وہ صارفین جن کے گھر کوئی کام کرنے کے لیے آتا ہے (جیسے کہ پلمبر ، الیکڑیشن یا دوسرے مکینک وغیرہ)کاگرین پاس چیک کرنے کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ وہ کام دینے کے مالکان نہیں ہیں وہ صرف ان کی سروسز حاصل کررہے ہیں ۔ لیکن اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ ضرورت پڑنے پر وہ گرین پاس کے بارے میں پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ 

جرمانے اور سزائیں

حکومتی اور نجی دونوں اداروں میں اگر کوئی کارکن گرین پاس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو600سے 1500 یورو کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ 

کوویڈ ٹیسٹ

کوویڈ ٹیسٹ کروا کر بھی گرین پاس حاصل کیا جا سکتا ہے(معیاد: 48گھنٹے فوری ٹیسٹ کے لیے اور 72گھنٹے مولیکیور ٹیسٹ کے لیے)۔ جن فارمیسیوں سے یہ فوری اینٹی جنیٹک ٹیسٹ ہو تا ہے اور وہ اس کا سرٹیفیکیٹ دے سکتے ہیں وہ ایک معمولی سی قیمت وصول کر سکتے ہیں : 18سال سے زائد 15یورواور نا بالغوں کے لیے8یورو (12سے 18سال  کے درمیان)۔