کام کرنے کی جگہوں میں گرین پاس کا ہونا لازمی ہے:کن باتوں کا جاننا ضروری ہے

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram

15اکتوبر 2021سے تمام کام کرنے والے افراد چاہے وہ حکومتی یا نجی اداروں کے ملازمین ہوں ، کے پاس گرین پاس (چرتیفیکاتوویردے) کا ہونا لازمی ہے جب وہ کام پر ہوں۔ ماسوائے مندرجہ ذیل کے:

-وہ لوگ جن کو طبی مسلئہ کی وجہ سے ویکسین نا لگ سکے: اس حوالے سے ان کو باقاعدہ ڈاکٹر کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنا ہو گا۔ لیکن پھر بھی ان کو بنا لاگت کے کوویڈ ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 

-وہ لاگ جو ہمیشہ سمارٹ ورکنگ (گھر سے کام کرنا)کرتے ہیں۔ 

ان ملازمین کے ساتھ کیا ہو گا جن کے پاس گرین پاس نہیں ہے

-حکومتی ملازمین کے لیے:کام کی جگہ پر داخل ہوتے ہوئے اگر ملازم کے پاس گرین پاس نہیں ہو گا تو اس کو بلاجواز کے غیر حاضر تصور کیا جائے گا (اس دوران اس کا کام کو نا کھو دینے کا حق برقرار رہے گا) جب تک وہ گرین پاس پیش نہیں کرتا۔ پانچ دن کے بعد اگر وہ اپنے کام سے غیر حاضر رہےگا تو اس کے کام کا کانٹریکٹ ختم ہو جائے گا اور جس دن سے وہ غیر حاضر ہونا شروع ہوگا سے باقی تمام دنوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی۔

-نجی اداروں کے ملازمین کے لیے: جو کوئی بھی گرین پاس کے بنا آئے گا اس کو غیر حاضر تصور کیا جائے گا اور تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی(اس دوران اس کا کام کو نا کھو دینے کا حق برقراررہے گا) جب تک کہ وہ گرین پاس پیش نہیں کرے گا۔ وہ ادارے جن کے پاس 15سے کم ملازمین ہیں، اگر کسی ملازم کے پاس گرین پاس نہیں ہے تومالک  اس کی جگہ عارضی طور پر کسی اور کو کام پر بلائےگا۔ 

کام کی جگہ پر کون کنٹرول کرے گا؟

مالکان کام کی جگہ پر کنٹرول کریں گے: 15اکتوبر تک مزید وضاحت کے ساتھ گرین پاس چیک کرنے کے طریقے منظم کیے جائیں گے۔ زیادہ تر کام کی جگہ کے داخلے پر کنٹرول ہو گا اور اس کے علاوہ کام کے دوران بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ 

وہ صارفین جن کے گھر کوئی کام کرنے کے لیے آتا ہے (جیسے کہ پلمبر ، الیکڑیشن یا دوسرے مکینک وغیرہ)کاگرین پاس چیک کرنے کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ وہ کام دینے کے مالکان نہیں ہیں وہ صرف ان کی سروسز حاصل کررہے ہیں ۔ لیکن اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ ضرورت پڑنے پر وہ گرین پاس کے بارے میں پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ 

جرمانے اور سزائیں

حکومتی اور نجی دونوں اداروں میں اگر کوئی کارکن گرین پاس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو600سے 1500 یورو کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ 

کوویڈ ٹیسٹ

کوویڈ ٹیسٹ کروا کر بھی گرین پاس حاصل کیا جا سکتا ہے(معیاد: 48گھنٹے فوری ٹیسٹ کے لیے اور 72گھنٹے مولیکیور ٹیسٹ کے لیے)۔ جن فارمیسیوں سے یہ فوری اینٹی جنیٹک ٹیسٹ ہو تا ہے اور وہ اس کا سرٹیفیکیٹ دے سکتے ہیں وہ ایک معمولی سی قیمت وصول کر سکتے ہیں : 18سال سے زائد 15یورواور نا بالغوں کے لیے8یورو (12سے 18سال  کے درمیان)۔

This page is also available in: Italiano (Italian) English (English) Français (French) Shqiptare (البانی) العربية (Arabic) Español (Spanish) বাংলা (Bengali) 简体中文 (Chinese (Simplified)) Русский (Russian) አማርኛ (امہاری) Tigrinya (ٹگرنیا)